سائينسدانوں نے 5700 سال قدیم ایک چیونگم دریافت کی ہے

ولینڈ، ڈنمارک کے  ماہرین آثاریات نے 5700 سال قدیم ایک چیونگم دریافت کی ہےیہ چیونگم برچ  کے  درخت کی چھال کے ٹکڑے پر مشتمل ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس چیونگم میں چبانے والے  کا مکمل ڈی این اے محفوظ تھا۔   ماہرین نے اس سے پتھر کے دور کے انسان کا مکمل جینوم حاصل کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق  ماہر اُن جرثوموں  کو بھی شناخت کر چکے ہیں، جو اسے چبانے والے کے منہ میں رہتے تھے۔

اسی سے اُن کی خوراک کی عادات کا پتا چلا ہے۔
نیچر کمیونی کیشن میں شائع ہونے والی  تحقیق میں بتایا گیا کہ پتھر کے دور میں انسان درختوں کی چھال کو پتھروں کے ہتھیار بنانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔  سکینڈے نیویا میں برچ کی چھال اور درختوں کے گوند  چبانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ماہرین کو ان پر انسانوں کے  دانتوں کے نشانات بھی ملے ہیں۔

ماہرین نے ڈی این اے سے چھال چبانے والے کی جنس ، بیماریاں اور طرز زندگی کے بارے میں بھی معلوم کر لیا ہے۔
ڈی این اے سے پتا چلا ہے کہ اس چھال کو چبانے والا کوئی مرد نہیں بلکہ ایک عورت تھی۔ یہ عورت جنیاتی طور پر سپین یا بیلجیم کے لوگوں سے قریب تھی۔ماہرین نے اس خاتون کی شکل کا بھی اندازہ کر لیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس خاتون کا رنگ گہرا، گہرے بال اور نیلی آنکیں تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے اس نظریے کو بھی تقویت ملی ہے کہ 11 ہزار سے 12 ہزار سال پہلے برف کی چادر پگھلنے کے بعد انسانوں کے دو الگ الگ گروہ سکینڈے نیویا آئے۔ماہرین کو ڈی این اے سےپتا چلا ہے کہ خاتون نے خوراک میں  فندق  یا  بندق ( ہیزل کا سرخی مائل بھورا پھل؛ اس پھل والی جھاڑی - امین اکبر ) اور بطخ کو کھایا ہوا تھا۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کسی شخص کی انفرادی خوراک تھی۔ماہرین کا ڈی این اے سے ایسے بیکٹریا کا بھی پتا چلا، جو آج نمونیا کا باعث بنتے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

16 Interesting Facts About Pakistan

انسان سپر ہیومن بن جائے گا؟

براعظم انٹارکٹکا کے 10 معلوماتی اور دلچسپ حقائق